عاشق و معشوق
معنی
١ - طالبِ مطلوب، محب و محبوب، باہم محبت کرنے والا۔ "عاشق کو تجلی جمال معشوق میں محو کر دیتا ہے تاکہ تفرقہ عاشق و معشوق باقی نہ رہے۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٧٧ ) ٢ - لازم و ملزوم، فاعل، مفعول۔ (فرہنگ آصفیہ؛ فیروزاللغات) ٣ - ہُک اور وہ حلقہ جس میں ہک ڈالا جاتا ہے، گھنڈی، حلقہ، پیٹی کے وہ دونوں پرزے جن سے کمر کسی جاتی ہے۔ "بٹنوں کے بجائے صرف ایک تکمہ اور گھنڈی ہوتی ہے جس کو "عاشق معشوق یا چشم" کہتے ہیں۔" ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٤٠ ) ٤ - کپڑے کی ایک قسم کا نام۔ "چند نام جو زیادہ مشہور ہیں ہمیں ایک کرم فرما کے ذریعے معلوم ہوئے ہیں، مثلاً : آنکھ کا نشہ؛ دل کی پیاس میم کریپ . عاشق معشوق۔" ( ١٩٥٥ء، حسرت (چراغ حسن)، مطالبات، ٦٩ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'عاشق' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق اسم 'معشوق' لگانے سے مرکب 'عاشق و معشوق' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٢١ء کو "مصباح التعرف" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - طالبِ مطلوب، محب و محبوب، باہم محبت کرنے والا۔ "عاشق کو تجلی جمال معشوق میں محو کر دیتا ہے تاکہ تفرقہ عاشق و معشوق باقی نہ رہے۔" ( ١٩٢١ء، مصباح التعرف، ١٧٧ ) ٣ - ہُک اور وہ حلقہ جس میں ہک ڈالا جاتا ہے، گھنڈی، حلقہ، پیٹی کے وہ دونوں پرزے جن سے کمر کسی جاتی ہے۔ "بٹنوں کے بجائے صرف ایک تکمہ اور گھنڈی ہوتی ہے جس کو "عاشق معشوق یا چشم" کہتے ہیں۔" ( ١٩٢٨ء، آخری شمع، ٤٠ ) ٤ - کپڑے کی ایک قسم کا نام۔ "چند نام جو زیادہ مشہور ہیں ہمیں ایک کرم فرما کے ذریعے معلوم ہوئے ہیں، مثلاً : آنکھ کا نشہ؛ دل کی پیاس میم کریپ . عاشق معشوق۔" ( ١٩٥٥ء، حسرت (چراغ حسن)، مطالبات، ٦٩ )